ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کونسل میں بی جے پی نے جمہوریت کی دھجیاں اڑائی ہیں: کانگریس

کونسل میں بی جے پی نے جمہوریت کی دھجیاں اڑائی ہیں: کانگریس

Wed, 16 Dec 2020 10:11:46    S.O. News Service

سدارامیا کا الزام، ہنگامہ کیلئے جے ڈی ایس ذمہ دار۔اخلاقی طور پر چیرمین اپنے عہدہ سے فوراً استعفیٰ دیں: بی جے پی

بنگلورو،16؍دسمبر (ایس او نیوز) ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن کانگریس لیڈر سدارامیا ریاستی قانون ساز کونسل میں آج ہوئے ہنگامے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی کونسل کی تاریخ میں ایسا ہنگامہ کبھی نہیں ہوا تھا۔ایسا شور وغل اورہاتھا پائی کونسل میں ہم نے کبھی نہیں دیکھی۔ اس پورے ہنگامے کے لئے جے ڈی ایس ذمہ دار ہے۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ اندر سے دروازے بند کرکے کونسل چیرمین کو اندر جانے سے روک کر بی جے پی اراکین نے دستور کی توہین کی ہے۔چیرمین کو ایوان میں داخل ہونے سے روکنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ چیرمین ہوتے ہوئے ڈپٹی چیرمین کا کرسی پر بیٹھنا درست نہیں۔چیرمین کو کچھ مسئلہ ہے اور وہ ایوان سے باہر جانا چاہتے ہیں تو صرف ان کے کہنے پر ڈپٹی چیرمین کونسل اجلاس کی صدارت کرسکتے ہیں۔کونسل میں چیرمین کے ہوتے ہوئے ڈپٹی چیرمین کو ان کی کرسی پر بٹھا کر دستور، جمہوریت اور قانون کی کھلے عام خلاف ورزی کی گئی ہے۔ایسا کرکے بی جے پی اراکین نے ایوان کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ بی جے پی کی جانب سے ہوئی قانون کی خلاف ورزی کی انہوں نے کڑی مذمت کی ہے۔

کانگریس کو اخلاقی ذمہ داری ہے تو فوری چیرمین کا استعفیٰ دلائیں: کونسل ہنگامے پر تبصرے کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے کہا کہ کونسل چیرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے جے ڈی ایس اراکین نے تائید کی ہے۔ اس سے پہلے ہی انہیں استعفیٰ دینا چاہئے تھا۔ڈپٹی چیرمین کی کرسی پر بٹھانے کے لئے ہم نے ہی کہا تھا تاکہ تمام کو پتہ چلے کہ چیرمین کو ہٹانے جے ڈی ایس بھی ہماری تائید کررہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کونسل میں ہوئے پورے ہنگامے سے ہماری پارٹی اور جے ڈی ایس نے گورنر کو آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہ ایوان میں کانگریسیوں کی غنڈہ گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اتنا سب ہوجانے کے باوجود کانگریس کا یہ اخلاقی فریضہ ہے کہ کونسل چیرمین سے فوری استعفیٰ دلائیں۔

ہری پرساد:رکن اسمبلی و کانگریس کے سینئر لیڈر بی کے ہری پرساد نے کہا کہ کانگریس اراکین نے ڈپٹی چیرمین دھرمے گوڈا کو چیرمین کی کرسی سے کھینچ کر ہٹایا۔اسی طرح بی جے پی اراکین نے چیرمین کو کونسل میں داخل ہونے سے روکا۔ دروازے بند کردئے گئے، کیا یہ درست ہے؟ یہاں کوئی کسی سے کم نہیں ہے۔چیرمین کی اجازت یا ہدایت پر ہی ڈپٹی چیرمین کو کرسی پر بٹھایا جاسکتا ہے۔ ڈپٹی چیرمین کو کرسی پر بٹھا کربی جے پی اراکین نے قانون کی دھجیاں اڑائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کے خلاف شکایت کرنے بی جے پی اور جے ڈی ایس اراکین گورنر کے پاس راج بھون گئے ہیں۔دراصل راج بھون بی جے پی پارٹی کا دفتر بن گیا ہے۔کونسل میں اس طرح کا ہنگامہ نہیں ہوناچاہئے تھا۔ہری پرساد نے کہا کہ ایوان میں جب چیرمین ہیں، کونسل کے لئے وہیں سپریم ہیں۔لیکن بی جے پی نے چیرمین کو ایوان میں داخل ہونے سے روک کر ان کے عہدہ کی بے عزتی کی ہے۔

ڈی کے شیوکمار: کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ریاستی حکومت نے گورنر سے درخواست کرکے کونسل اجلاس مدعو کیا تھا تو اجلاس چلانے سے چیرمین کو کیوں روکا گیا؟ ایوان سے باہر چیرمین کو کیوں روکا گیا؟ یہ اختیار بی جے پی کو کس نے دیا؟ نئی دہلی میں نامہ نگاروں کو شیوکمار نے بتایا کہ ایوان کا ہم بہت احترام کرتے ہیں۔گورنر کی ہدایت پر کونسل سکریٹری نے تمام اراکین اور چیرمین کو خطوط لکھ کر یہ اجلاس طلب کیاتھا۔ پھر چیرمین کو اجلاس چلانے سے کیوں روکا گیا؟ایسا کرنا کونسل کی بے عزتی اور کونسل پر بدنما داغ ہے۔

کے ایس ایشورپا: ریاستی وزیر برائے دیہی ترقیات و پنچایت راج کے ایس ایشورپا نے کہا کہ کونسل میں کانگریس کی غنڈہ گردی سے کونسل کی 120سالہ تاریخ داغدار ہوئی ہے۔اگر کانگریس میں اب بھی اخلاقی ذمہ داری ہے تو کانگریس اراکین کی اس حرکت کے لئے کانگریس کو اس ملک اور ریاست کے عوام سے معافی مانگی چاہئے اور فوری چیرمین سے استعفیٰ دلواناچاہئے۔

آر اشوک: ریاستی وزیر مالگزاری آر اشوک نے کہا کہ کونسل میں کانگریس کو اکثریت حاصل نہیں تو پھر یہ ناٹک کیوں کرناچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیرمین نے ہی غلطی کی ہے تو گورنر کو مداخلت کا حق ہے۔ قانون میں اگرگنجائش ہے تو کونسل اجلاس دوبارہ طلب کیا جائے گا اور التوا میں پڑے معاملے حل کئے جائیں گے۔ان سے پوچھا گیا کہ چیرمین کے ہوتے ہوئے ڈپٹی چیرمین کو چیر کی کرسی پر بٹھانا کیاد رست ہے؟ اس پر کہا کہ چیرمین پر اعتماد نہیں تو ڈپٹی چیرمین اجلاس چلا سکتے ہیں۔

پرکاش راتھور: کانگریس کے رکن کونسل پرکاش راتھوڑ نے کہا کہ کونسل میں چیرمین کے ہوتے ہوئے ڈپٹی چیرمین کو چیرمین کی کرسی پر بٹھانا غیر قانونی ہے۔اس پرہم نے احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست دو پارٹیاں آج متحد ہو کر ایوان اور جمہوریت کی بے عزتی کررہی ہیں۔گھنٹی بج رہی تھی، چیرمین آنے کے لئے تیار تھے۔اتنے میں ڈپٹی چیرمین کا چیرمین کی کرسی پر جا کر بیٹھ جانا کیا یہ درست ہے؟ یہ تماشا دو نائب وزرائے اعلیٰ اور وزیر قانون دیکھ رہے تھے۔

بسواراج ہورٹی: کونسل میں خاموش تماشہ دیکھنے والے بسوراج ہورٹی نے کہا کہ گھنٹی بجتے ہوئے چیرمین کو بھی ایوان میں نہیں آنا چاہئے تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ اسی دوران ڈپٹی چیرمین کو چیرپر کیوں بٹھادیاگیا؟ اس پر کہا کہ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ چیرمین کے ساتھ اکثریت نہیں ہے۔ڈپٹی چیرمین کو چیر پر بٹھانے کا فیصلہ ریاستی حکومت نے کیا تھا۔لیکن کانگریس کو اتنا بڑا ہنگامہ نہیں کرنا چاہئے تھا اس کے لئے تینوں پارٹیاں ذمہ دار ہیں۔

مادھو سوامی: ریاستی وزیر برائے قانون وامور پارلیمان جی سی مادھو سوامی نے کہا کہ ڈپٹی چیرمین کو چیرمین کی کرسی پر اس لئے بٹھایاگیا کہ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ موجودہ چیرمین کے ساتھ اکثریت نہیں ہے۔چودہ دن کی ہم نے نوٹس بھی دی تھی، اس کے باوجود چیرمین نے کوئی فیصلہ نہیں لیا تھا۔انسداد گؤکشی قانون سے متعلق مادھو سوامی نے بتایا کہ ہم گورنر سے ملاقات کرکے دوبارہ کونسل اجلاس طلب کرنے کی درخواست کریں گے۔ اگر یہ بل کونسل میں منظور نہیں ہوا تو یقینا آرڈی نینس ضرور جاری کریں گے۔ اس ملک میں یہ کوئی نیا قانون نہیں۔پنڈت جواہر لال نہرو اور گاندھی جی نے بھی ملک میں گؤکشی قانون کونفاذ کرنے کی وکالت کی تھی۔

نصیراحمد: سینئر کانگریس لیڈر و رکن کونسل نصیراحمد نے کہا کہ کونسل چیرمین کے ساتھ اگر اکثریت نہیں ہے تو انہیں استعفیٰ دینا پڑے گا۔ لیکن اس کے لئے ایک طریقہ کار ہوتاہے۔ بی جے پی نے اس طریقہ پر عمل ہی نہیں کیا۔ محض کونسل میں انسداد گؤکشی بل کو منظور کروانے کے مقصد سے آج بی جے پی نے دستور کا گلا گھونٹا ہے۔ بی جے پی نے آمرانہ رواج کو اپنا رکھا ہے۔ اس کی کانگریس مذمت کرتی ہے۔اس ظلم اور آمرانہ رواج ختم کرنے ہمیں بھی حکومت عملی تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


Share: